12 اکتوبر، 2026، 12:35 PM

نیویارک یونیورسٹی، غزہ میں نسل کشی کے خلاف احتجاج، طلباء کا اسرائیل سے تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ

نیویارک یونیورسٹی، غزہ میں نسل کشی کے خلاف احتجاج، طلباء کا اسرائیل سے تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ

نیویارک یونیورسٹی کے 100 سے زائد طلباء نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی اور فلسطین پر قبضے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے یونیورسٹی سے اسرائیل کے ساتھ تمام تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نیویارک یونیورسٹی کے 100 سے زائد طلباء نے واشنگٹن اسکوائر پارک کے گریبَلڈی پلازا میں مظاہرہ کیا اور غزہ میں نسل کشی کے خلاف صہیونی حکومت سے تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران وہاں سے گزرنے والے کئی افراد بھی مظاہرین کے حق میں نعروں میں شریک ہوئے، جبکہ چند صہیونیوں نے مظاہرین پر چیخ و پکار کی، تاہم مجمع نے انہیں زیادہ توجہ نہیں دی

ذرائع کے مطابق، طلبہ تنظیم ایس جے پی، طلبہ اسمبلی کے کارکنوں، نیویارک یونیورسٹی میں فلسطین سے انصاف کے حامی اساتذہ و ملازمین اور قانون کے طلبہ کی تنظیم کے نمائندوں نے تقاریر کرتے ہوئے گزشتہ تین برسوں کے دوران غزہ میں فلسطینیوں کی تباہی اور فلسطین پر 78 سال سے جاری قبضے کی مذمت کی۔

مقررین نے یونیورسٹی پر الزام لگایا کہ وہ اسلحہ ساز کمپنیوں میں سرمایہ کاری، تل ابیب میں اپنا کیمپس قائم رکھنے اور یونیورسٹی میں فلسطین کے حامی اظہارِ رائے کو دبانے کے ذریعے غزہ میں نسل کشی اور فلسطین پر قبضے میں شریک ہے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ نیویارک یونیورسٹی تل ابیب میں اپنا کیمپس بند کرے، اپنی سرمایہ کاری کی تفصیلات عام کرے، اسلحہ ساز کمپنیوں اور اسرائیل سے سرمایہ کاری واپس لے اور فلسطین کے حامیوں کی آواز دبانے کا سلسلہ ختم کرے۔

تقاریر کے بعد مظاہرین نے یونیورسٹی کے کیمپس کے گرد مارچ کیا اور نعرے لگائے: ’’ایک، ہم طلبہ ہیں! دو، ہماری جدوجہد جاری رہے گی! تین، فلسطین کی مکمل آزادی تک!‘‘

مظاہرین نے یہ نعرہ بھی لگایا: ’’نیویارک یونیورسٹی، بتاؤ آج تم نے کتنے بچوں کو قتل کیا؟‘‘

News ID 1942056

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha